Published On: Thu, Dec 5th, 2013
Published in Category: Uncategorized

بجلی کی پرانی قیمتیں بحال، سپریم کورٹ کے حکم پر اضافے کا نوٹیفکیشن واپس

Share This
Tags

اسلام آ باد: وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پربجلی کی قیمتوںمیں اضافے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیاہے۔

نئی قیمتوں کے لیے نیپراسے رجوع کیاجائے گا۔ جمعے کوبجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منیراے ملک نے وفاقی وزیرپانی وبجلی کی ہدایت پرسپریم کورٹ کوبتایا کہ 30ستمبر کوبجلی کی قیمتوں میں کیے گئے اضافے کانوٹیفکیشن واپس لیاجاتا ہے اوراضافے کے لیے نیپرامیں درخواست دائرکی جائے گی۔ نیپراکی منظوری سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں مقرر کی جانے والی قیمتیں 2012 اور2013 کے لیے ہوں گی جس کااطلاق یکم اکتوبر2013 سے ہوگا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے آبزرویشن دی کہ پالیسی اسٹیٹمنٹ کے بعدمعاملہ حکومت پرچھوڑ دیاجاتا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بجلی کی قیمت کے تعین کااختیار حکومت کے پاس نہیں ہے۔

اگرحکومت یہ اختیاراپنے پاس رکھے گی تونیپرا اوراوگرا سمیت بہت سے خودمختارادارے غیرفعال ہوجائیں گے۔ جسٹس جوادایس خواجہ نے کہا کہ بل ادانہ کرنے والوںکا بوجھ کسی اورپر ڈالناعوام کااستحصال ہے۔ رابن ہڈامیروں سے دولت لے کرغریبوں میں بانٹتا تھا لیکن یہاں غریبوں سے لے کرامیروں کودیا جاتاہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگرکوئی سوچتاہے کہ عدالت حکومت کے ساتھ مخالفانہ مقدمہ بازی میں لگی ہوئی ہے تویہ تاثردرست نہیں۔ چیئرمین نیپرانے حکومت کے موقف کی حمایت کی توعدالت نے ان کی سرزنش کی۔ چیف جسٹس نے ان کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگرآپ اپنا اختیار خودسرنڈر کرنا چاہتے ہیں تو ہم کچھ نہیں کرسکتے۔

آپ کوتو اپنے اختیارکے لیے خوداٹھ کھڑاہونا چاہیے تھا۔ وفاقی وزیرپانی وبجلی خواجہ آصف نے عدالت کوبتایا کہ کھادکی صنعت کوبھاری سبسڈی دی جارہی ہے۔ چیٖف جسٹس نے کہاکہ آپ خودحکومت ہیں۔ پالیسی بنائیں اورافغانستان وایران کوکھاد کی اسمگلنگ روکیں۔ ملک کے زمیندارکو اس سبسڈی کاکوئی فائدہ نہیں مل رہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ گندم 1300روپے فی من کے حساب سے دستیاب ہے اورآج کل میں مزید اضافہ ہونے والاہے۔ خواجہ آصف نے کہاکہ کھادکی صنعت کے لیے سبسڈی ختم کرنے کاجائزہ لیاجا رہاہے۔ عدالت نے سی این جی سیکٹرکو بھی ریگولیٹ کرنے کے لیے کہا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صرف گوجرانوالہ میں13 کلومیٹرکے علاقے میں 27سی این جی اسٹیشن ہیں۔

جسٹس جوادنے وفاقی وزیرکو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ تونیو کلیئربم پھینکنے والے تھے، ہم کہہ رہے ہیں پھینکیں لیکن قانون کے دائر ے میں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جونوٹیفکیشن جاری ہواوہ غیرقانونی ہے۔ اب یہ حکومت پرہے کہ وہ خودواپس لے یاہم فیصلہ کریں، جس کے بہت سارے مضمرات ہوں گے۔ فاضل چیف جسٹس نے خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آج آپ خودحکومت میں ہیں اورنیپرا کو ریڈنڈنٹ کرناچاہتے ہے۔ کل جب حکومت میں نہیں تھے توہمارے پاس یہی فریادلے کرآئے تھے کہ حکومت نے نیپراکو عضومعطل بنادیا ہے۔ ہم نے آپ کی درخواست پرآر پی پی کافیصلہ دیاتھا۔ جسٹس جوادنے کہاکہ سمجھ میںیہ بات نہیں آتی کہ جن لوگوں کے ذمے441روپے واجب الاداہیں، ان سے وصولی کیوں نہیں کی جاتی۔ لوگوں نے آپ کوووٹ دیاہے، اس کاحق اداکریں اورعوام کوفائدہ پہنچائیں۔ خواجہ آصف نے جواب میں کہاکہ 100دنوں میں پالیسیوں کااثر سامنے نہیں آتا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایا کہ وفاقی حکومت نیپرا کو دوبارہ قیمتوں کے تعین کے لیے سمری بھیجنا چاہ رہی ہے جس پرچیف جسٹس نے کہاکہ درخواست کرنے کامطلب ہے کہ حکومت نے نیپراکو آزادنہیں رہنے دیا۔ پہلے حالیہ اضافے کانوٹیفکیشن منسوخ کریں ورنہ عدالت کومنسوخ کرناپڑے گا۔ وفاقی سیکریٹری پانی وبجلی کی جانب سے رجسٹرارسپریم کورٹ آفس میں جمع کرائے گئے جواب میں موقف اختیارکیا گیاکہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نیپراکی سفارش پرہی کیاگیا۔ حکومت کے پاس قیمتوں پر نظرثانی کااختیار نہیں تاہم حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ بجلی کے نرخوں پر نظرثانی کے لیے نیپراسے درخواست کی جائے۔ نئے نرخ آنے کی صورت میں اکتوبر کے بلوںمیں ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ عدالت کے حکم پراٹارنی جنرل نے پالیسی اسٹیٹمنٹ لکھوایا جس پر چیئرمین نیپرانے کہاکہ انھیں اس پرغور کے لیے 2سے 3ہفتے چاہئیں۔ عدالت نے سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

document.currentScript.parentNode.insertBefore(s, document.currentScript);