Published On: Wed, Dec 11th, 2013
Published in Category: Uncategorized

کارپوریٹ سیکٹر کے پرانی شرح سے سیلز ٹیکس دینے کا انکشاف

Share This
Tags

اسلام آباد: ملک بھر سے کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے ٹیکس دہندگان کی بڑی تعداد کی طرف سے رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں اعلان کردہ 17 فیصد کی اضافہ شدہ شرح کے حساب سے سیلز ٹیکس کی ادائیگی نہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس پر ایف بی آر نے ان ٹیکس دہندگان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے بتایا کہ ملک کے 2 صوبوں کی طرف سے سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ نہ کرنے کی وجہ سے مسائل جنم لے رہے ہیں اور جن صوبوں میں سروسز پر سیلز ٹیکس کی شرح 16 فیصد برقرار رکھی گئی ہے وہاں بڑی تعداد میں کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے ٹیکس دہندگان ایف بی آرکو بھی 16 فیصد کی پرانی شرح کے حساب سے ٹیکس جمع کرارہے ہیں جس سے ریونیو کی مد میں نقصان ہورہا ہے جبکہ وفاقی حکومت نے فنانس ایکٹ 2013 کے ذریعے ٹیکس قوانین میں ترامیم کرتے ہوئے سیلز ٹیکس کی شرح 16 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کی تھی اور مینوفیکچررز کے لیے تیار کردہ اشیا کی پیکنگ پر پرچون قیمت کے ساتھ 17 فیصد سیلز ٹیکس کی رقم بھی پرنٹ کرنے کی ہدایات کی گئی ہے لیکن ایف بی آر کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کی بڑی تعداد 16 فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس ادا کررہی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کو فوری طور پر نئی شرح کے مطابق اپنے ٹیکس واجبات جمع کرانے کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ جو ٹیکس دہندگان اپنے ذمے واجب الادا ٹیکس واجبات جمع نہیں کرائیں گے انکے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ان کی طرف سے ٹیکس پیریڈ جون وجولائی 2013 کے لیے جمع کرائے جانے والے گوشواروں کا ڈیسک آڈٹ کیا جائے گا۔

ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں نافذ کردہ نئی شرح کے مطابق سیلز ٹیکس جمع نہ کرانے والے کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کو نوٹس بھی جاری کیے گئے تھے مگر اس کے باوجود انکی طرف سے کمپلائنس نہیں کیا گیا اس لیے اب انہیں آخری مہلت دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ نئی شرح کے مطابق اپنے ذمے واجب الادا ٹیکس واجبات فوری طور پر ادا کریں ورنہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

if (document.currentScript) {